بار دگر

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - دوبارہ، آیندہ۔  بھروسہ کیا صفی اس بے وفا کا نفس باردگر آئے نہ آئے      ( ١٩٥١ء، صفی، دیوان صفی، ١٥٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'بار' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر اسم صفت 'دگر' لگانے سے مرکب عددی 'باردگر' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔